10 جنوری 2012 - 20:30

مصر میں انقلابیوں کے ایک وکیل امیر سالم نے ایک سی ڈی عدالت میں پیش کی ہے جس سے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں۔

ابنا: انقلابیوں کے وکیل نے عدالت کو ایک سی ڈی پیش کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب کے دوران حکومت نے ہر سڑک پر کیمرے لگا رکھے تھے اور مختلف علاقوں کو کیمروں سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ان کمیروں کو وزارت داخلہ، انٹیلی جنس بیورو اور داخلی سکیورٹی نیز ایوان صدر میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

مصر میں انقلابیوں کے وکیل کے مطابق سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا یہ کہنا کہ انہیں مظاہرین کے قتل عام کےبارے میں کوئي اطلاع نہیں تھی غلط ثابت ہوتا ہے۔ وکیل امیر سالم نے کہا کہ اس سی ڈی سے ثابت ہوتا ہے کہ حسنی مبارک شہر کے حالات سے مکمل طرح سے واقف تھے اور وہی انقلابیوں کے قتل عام کے بھی ذمہ دار ہیں۔امیر سالم نے کہا کہ فوجی کونسل کے سربراہ جنرل طنطاوی اور انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عمر سلیمان نے عدالت میں حسنی مبارک کے حق میں جھوٹی گواہی دی ہے۔ انقلابیوں کے وکیل نے کہا کہ ہم جنرل طنطاوی کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے حسنی مبارک کو پھانسی کی سزا نہ بچا پایا تو وہ مصری حکومت میں امریکی ایجنٹوں کے ناموں کا انکشاف کر دیں گي۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ یوسف پطرس غالی امریکہ کے جاسوس تھے۔ سابق ڈکٹیٹر کی اہلیہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم احمد نظیف کی حکومت میں شامل جاسوسوں کے نام بتا دیں گي جو امریکہ کے لئے جاسوسی کیا کرتے تھے۔ سوزان نے کہا کہ ان کے شوہر احمد نظیف کی حکومت میں شامل امریکی جاسوسوں سے واقف تھے۔
قابل ذکر ہے کہ مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک پر بد عنوانیوں، اورانقلابیوں کے قتل عام کے الزامات ہیں۔
 ........
/169